Tuesday, 17 December 2024

syed uon mohmd zaidi phandairdvi

سید عون محمد زیدی  متخلص  بیدارپھندیڑوی  

شاعر اہلبیت ،  خادم  دین و ملت سیدعون محمد زیدی  3 /فروری 1932 عیسوی کو پھندیڑی سادات ضلع مرادآباد صوبہ اترپردیش میں  پیدا ہوئے۔ عون محمد کا تعلق ایک دیندار  گھرانے سے تھا ان کے والد سیدحسن علی زیدی تھے جن کی تربیت اور رہنمائی نے آپ کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آپ نےابتدائی تعلیم انگلو عربک اسکول،اجمیری گیٹ، دہلی سے حاصل کی اور آٹھویں جماعت تک تعلیم مکمل کی۔

خدمات:  عون محمد کی زندگی کا بیشتر حصہ دین کی خدمت، عبادات اور اجتماعی امور میں گزرا۔ انہوں نے کئی اہم پروجیکٹس میں بھرپور حصہ لیا، جن کا مقصد مذہبی مقامات کی تعمیر و ترقی اور عوام کی بھلائی تھا۔ سنہ 1957 سے 1965 عیسوی تک کربلا کی باؤنڈری کمیٹی کے فعال رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس دوران آپ نے کربلا کے تقدس اور عمارت کی باؤنڈری کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی عرصے میں آپ نے روزہ حضرت عباس علیہ السلام کی تعمیر کے لیے بھرپور محنت کی اور اس منصوبے کی تکمیل میں اہم کردار ادا کیا۔

آپ سنہ 1980 عیسوی سے 2000 تک  جامع مسجد "پھندیڑی سادات" کے متولی رہے۔ آپ کے دور میں مسجد کے  تعمیری اور دیگرامور منظم انداز میں چلائے گئے  اور آپ نے بہت سے مسائل کو حل کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔

شخصی خصوصیات: سید عون محمد زیدی  سادگی،  دیانت داری، اور عبادات میں مشغول رہنے والے شخص تھے۔ آپ ہمیشہ دوسروں کی خدمت اور دین کے معاملات کو اولین ترجیح دیتے تھے۔ اپنی زندگی میں انہوں نے بے لوث طریقے سے دین کے لیے کام کیا اور لوگوں کے دلوں میں احترام پیدا کیا۔

شاعری اور ادب:  عون محمد ایک بہترین شاعر تھے، جنہیں ادب اور سخنوری میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ آپ "پھندیڑی سادات" کی محافل میں بطور استاذالشعراء جانے جاتے تھے۔ آپ کی شاعری میں گہرائی،  فصاحت، اور مذہبی جزبہ جھلکتا تھا، جس نے آپ کو محافل میں ایک خاص مقام عطا کیا۔ آپ کی تخلیقات نے نہ صرف لوگوں کو متاثر کیا بلکہ ان کے ایمان اور روحانیت کو بھی مضبوط کیا۔ آپ کی شاعری مجلسوں اور محافل میں سننے والوں کے دلوں کو چھو لینے والی ہوتی تھی، اور آپ کے کلام کا اثر مدتوں یاد رکھا جاتا رہا۔آپ کی شاعری کی جھلکیاں آپ کے بڑے فرزند فیض محمد کی شاعری میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

انتقال:  سید عون محمدزیدی  نے 6 /جون 2011 عیسوی میں اس دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کیا۔ آپ کے انتقال پر قریبی لوگوں، اہل خانہ، اور دوستوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ آپ کی خدمات کو آج بھی عقیدت سے یاد کیا جاتا ہے۔

فارسی:

شاعر اهل‌بیت، خادم دین و ملت، سید عون محمد زیدی، در تاریخ ۳ /فوریه ۱۹۳۲ میلادی در روستای پھندیری سادات، شھرستان مرادآباد، استان اوتار پردیش، هند به دنیا آمدند. عون محمد از خانواده‌ای متدین بودند و پدرشان سید حسن علی زیدی با تربیت و راهنمایی‌های خود تأثیر عمیقی بر زندگی پسر سید عون محمد زیدی گذاشت.ایشان تحصیلات ابتدایی را در مدرسه "انگلو عربی" نور الھی، منطقه سرای امامین، دهلی تا کلاس هشتم به پایان رساندند.

خدمات:  بخش اعظم زندگی عون محمد زیدی صرف به خدمت دین، عبادات و امور اجتماعی شد. او در پروژه‌های متعددی که با هدف ساخت و توسعه اماکن مذهبی و کمک به مردم انجام می‌شد، مشارکت فعال داشت. از سال ۱۹۵۷ تا ۱۹۶۵ میلادی، وی به عنوان عضو فعال کمیته مرزبندی کربلا خدمات ارزنده‌ای ارائه داد و نقش مھمی در حفاظت از قداست و ساخت مرزهای کربلا ایفا کرد. در همین زمان برای ساخت شبیہ حرم حضرت عباس (ع) تلاش فراوانی نمود و در تکمیل این طرح نقش کلیدی داشت.

از سال ۱۹۸۰ تا ۲۰۰۰ میلادی، به عنوان متولی مسجد جامع "پھندیری سادات" فعالیت نمود. در دوران تصدی او، امور عمرانی و مدیریتی مسجد با نظم خاصی انجام شد و مشکلات بسیاری با رهبری او حل گردید.

ویژگی‌های شخصیتی:  سید عون محمد زیدی به سادگی، امانت‌داری و مداومت در عبادت مشھور بودند. او همواره خدمت به دیگران و رسیدگی به امور دینی را در اولویت قرار می‌داد. در طول زندگی خود با اخلاص کامل در جھت خدمت به دین کار کرد و احترام زیادی در دل مردم ایجاد کرد.

شعر و ادب:  عون محمد زیدی شاعری توانمند بودند که در زمینه ادب و سخنوری جایگاه برجسته‌ای داشتند. او در محافل جشن"پھندیری سادات" به عنوان استادالشعراء شناخته می‌شد. شعرهای او با عمق، فصاحت و احساسات مذهبی همراه بود که موجب شد در محافل مذهبی جایگاه ویژه‌ای داشته باشد. اشعار او نه تنها دل‌ها را تحت تأثیر قرار می‌داد، بلکه ایمان و روحیه معنوی مردم را نیز تقویت می‌کرد. کلام او چنان تأثیرگذار بود که سال‌ها در ذهن مردم باقی می‌ماند. تاثیرات ادبی او را می‌توان در اشعار فرزند ارشدش، فیض محمد، مشاهده کرد.

وفات:  سید عون محمد زیدی در تاریخ ۶ /ژوئن ۲۰۱۱ میلادی به دیار باقی شتافتند. درگذشت او موجب اندوه عمیق خانواده، نزدیکان و دوستان شد. خدمات او همچنان با احترام و محبت یاد می‌شوند و الھام‌بخش فعالیت‌های خیرخواهانه و دینی برای دیگران هستند.

Thursday, 5 December 2024

مولانا سید ظہیر حیدر پھندیڑوی maulana syed zaheer haider zaidi

مولانا  سید ظہیر حیدر ابن محمد کاظم زیدی  جو جولائی سنہ 1956 عیسوی کو پھندیڑی سادات ضلع امروہہ صوبہ اترپردیش پر پیدا ہوئے ۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن کے پرئمری اسکول   میں ہندی اردو کے درجہ پانچ تک کی  پھر اس کے بعد 18/ جولائی سنہ 1966 عیسوی کو عازم میرٹھ ہوئے اور منصبیہ عربی کالج میں داخلہ ہوا ۔ آپ نے منصیہ عربی کالج میں  مولانا ابرار حسین، مولانا سید افضال حسین، مولانا سید سخی احمد، مولانا سید محمد باسٹوی، مولانا رفعت حسین،  اور مولانا سید محمد سے  درجہ عالم تک  کسب فیض کیا۔

آپ نے  ماہ جنوری  سنہ 1971 عیسوی میں  لکھنؤ کا رخ کیا اور وہاں کی مشہور و معروف درسگاہ  مدرسہ ناظمیہ میں داخل  ہو کر  مولانا سید محمد شاکر ، مولانا سید ابن حسن اور مولانا محمد تقی وغیرہ سے کسب فیض کیا۔ آپ  مدرسہ ناظمیہ میں  اپنی تعلیم کو مکمل نہیں کر پائے اور وس ہی میں چھوڑ کر اپنے وطن واپس آگئے اور تبلیغ و تدریس میں مصروف ہوگئے۔

سنہ 1985 عیسوی کو پھندیڑی سادات کے  ڈاکخانہ  میں پوسٹ ماسٹر  کے عہدہ پر منتخب ہوئےاور 17 جولائی 2022 عیسوی تک  اپنے عہدہ کو بحسن و خوبی انجام دیتے رہے اور عزت کے ساتھ   ریٹائر ہوئے۔ موصوف نے  ماہ  اکتوبرسنہ 1973 عیسوی سے مدرسہ مصباح العلم میں تدریسی خدمات کا آغاز کیا اور ابھی تک اس مبارک وظیفہ کو  انجام دے رہے ہیں ۔

مولانا نے سیکڑوں شاگردوں کو احکام ، قرآن مجید اور تاریخ کا درس دیا ۔ آپ کے شاگرد پوری دنیا میں اپنے علم اور خدمات سے پہچانے جا رہے ہیں ۔  آپ کے شاگردوں میں  مولانا  سیدمشرف حسین، مولانا  محمد مہدی ، مولانا سید محسن عباس،  بندہ ناچیز( سید رضی حیدر) مولانا سید سرکار مہدی وغیرہ کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ 

Sunday, 18 August 2024

Syed Razi Haider Zaidi

Syed Razi Haider Zaidi (Urdu سید رضی حیدر زیدی) also known as Maulana Razi Haider (born 14 October 1980) is a leading Indian Twelver Shia Scholar Philosopher thinker educationist community activist and critic Presently Maulana Razi Haider is acknowledged as one of the famous and senior shia scholars from the Indian subcontinent..

سید رضی حیدر زیدی
Syed Razi Haider Zaidi 
Maulana Asad Raza Hussaini
سید رضی حیدر زیدی
TittleKhateeb e Ahlebait
ParentsFather- Syed Ameer Haider Zaidi
Birthdate14 October 1980
BirthplacePhandari Saadat]]
Amroha
Uttar Pradesh
Books---------
NationalityIndian
Current LivingDelhi
EthnicityZaidi Syed
ReligionUsooli Twelver Shia Islam

Early life and education

Syed Razi Haider, a preacher, author, and scholar, was born in 1980 CE, corresponding to 1400 AH, in the village of Phandheri Sadat, in Amroha district, Uttar Pradesh. He belongs to a landowning family of Phandheri Sadat. His father, Janab Sayyid Amir Haider Zaidi, was a noble-hearted person with deep love for the Ahlul Bayt (A.S.). He received his early education at the Misbahul Ilm school in his hometown. He furthered his studies under Maulana Zaheer Haider, Maulana Mohammad Baqir Naogaanvi, Janab Razi Haider Pradhan, Janab Ali Haider Mafeedar Marhoom, and Maulana Waqar Hussain Sahib. Additionally, he began his modern education at "Kisan Junior High School, Phandheri Sadat."

In 1995 CE, he traveled to Lucknow with his uncle, Maulana Sayyid Imran Haider Marhoom, who was a preacher in Africa. In Lucknow, Maulana Sayyid Mohammad Asghar Zaidi (Instructor at Sultanul Madaris, Lucknow) enrolled him at Madarsa Jame'at ul Tabligh, Musahib Ganj. At that time, the principal of the madarsa was Maulana Hakim Mohammad Kazim, who was efficiently managing the education system.

While continuing his religious studies, he also pursued modern education and obtained various degrees, including Adeeb, Adeeb Mahir, Adeeb Kamil, Moallim from Jamia Urdu, Aligarh, Munshi, Maulvi, Alim, Kamil, and Fazil in Arabic-Persian from the UP Board, Imaadut Tafseer, Imaadul Adab from Shia College, Nakhas, BA from Shia Degree College, Lucknow, and MA from Jamia Millia Islamia, Delhi.

In 2003 CE, seeking higher education, he went to Qom-e-Muqaddas, Iran, where he studied under various teachers at Haram Hazrat Masooma Qom, Madarsa Faiziya, Madarsa Rasool-e-Azam, Madarsa Al-Mahdi, Madarsa Fiqh wa Usul (Jame'at ul Uloom), and Madarsa Hujjatiya (Fiqh wa Usul). At the Haram of Hazrat Fatima Masooma Qom (A.S.), he taught Nahw (Arabic grammar), Fiqh (Islamic jurisprudence), Mantiq (logic), and other subjects to many students.

While in Qom-e-Muqaddas, he authored the book "Hukm Kuffar Az Nazar Taharat wa Najasat" and wrote various articles in the Persian language. On January 20, 2006 CE, he got married. He then took his wife to Qom-e-Muqaddas, where she also engaged in studies. Allah blessed them with two daughters and a son in Qom, and after returning to India, they were blessed with another child.

The same year he went to Iran, he made a pilgrimage on foot from Iran to Iraq, visiting Karbala, Najaf, Samarra, and Kadhimayn, registering himself among the pilgrims. He has since made the pilgrimage four more times.

In 2017 CE, he returned to his homeland to meet his parents. As he was about to return to Iran, Maulana Rizwan Ali informed him that he was needed in Delhi. He was called to the International Noor Microfilm Center, Iran Culture House, Delhi. The officials there expressed that they needed him to assist in advancing research efforts. Although he initially planned to leave, they persuaded him to stay for three months, and he has been staying there ever since.

He was appointed as a researcher at the International Noor Microfilm Center, Iran Culture House, Delhi. He delivers analytical religious discourses in a unique manner, attracting invitations from scholars and intellectuals. His travels for this purpose have taken him to places like Bangalore, Mysore, Meerapur, Fatehpur Haswa, Bans Bareilly, Mohan, Matupur Azamgarh, Bada Gaon Shahganj, Kandaraki Muradabad, Nooriu Sarai Sambhal, Ganganagar Rajasthan, Usmanpur Amroha, Naugawan Sadat, Basta District Bijnor, Etawah, Chholas Noida, Manjhanpur Kaushambi, Jandar Pur District Bijnor, Muzaffarnagar, and Lucknow, among others. He continues to give religious discourses in Delhi and his hometown.

Along with his religious duties, he also focuses on public issues and seeks solutions. He has delivered speeches on the "One Channel" platform on the topics of religion and employment, aiming to address human needs. He is also a member of the Imam Ali Raza (A.S.) Charitable Foundation, Tal Katora, Lucknow, which provides medical, educational, and social services without any donations or external assistance.

He remains connected with the International Noor Microfilm Center, Iran Culture House Delhi, and AMR Medical and Educational Trust Delhi, diligently fulfilling his responsibilities. We pray that the Almighty increases his success. Ameen.

Religious activities

He is an international known, famous and well known Zakir and Poet and delivers Majlis (religious lectures in memory of the martyrdom of Imam Hussain) in different part of india and out of india specially in Lucknow, Akbarpur, Mumbai, Delhi, Aligarh, Mithupur (Azamgarh), Sri Ganga Nagar, Mysore, Amroha, etc and he is also a very famous writer and nazim, his articles appear in famous newspapers and websites of India.

Monday, 19 June 2023

انسانی معاشرہ اور تعلیم کی ضرورت


مولانا سید رضی زیدی پھندیڑوی دہلی 

 اللہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بناکر بھیجا  پھر اس کو دنیا اور آخرت کی عظیم نعمت  کے حصول کی تاکید کی۔  اللہ نے انہی انسانوں میں سے  اپنے منتخب بندوں کو  علم کی دولت  سے مالامال کرکے بھیجا  اور اہل بصیرت  ان  افراد  کو (جنہیں  اللہ نے  یہ عظیم دولت عطا کر کے  دنیا میں بھیجتا ) ہادی ،  راہنما  اور صاحبان علم کہتے ہیں۔  تعلیم ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے جو انسان کو حیوان سے ممتاز بناتی ہے اگرکسی معاشرے میں تعلیمی فقدان ہے تو وہ حیوان سے بدتر ہے کیونکہ تعلیم  فرد ،  قوم،  معاشرے ،  شہر،  ملک اور اہل دنیا کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کا سبب بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف اسکول ، کالج اور یونیورسٹی سے کسی ڈگری کا حاصل کرنا نہیں بلکہ اسکے ساتھ  تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور  اقدار کا خیال رکھ سکے۔ تعلیم وہ سرمایہ ہے  جس کے ہوتے ہوئے انسان اللہ کی قربت اور دنیا میں کامیابی کو حاصل کرلیتا ہے۔   
حصول تعلیم کو  تمام  مذاہب  اہمیت دیتے ہیں مگر دین  اسلام حصول تعلیم کو  واجب اور ضروری جانتا ہے۔ آج کے اس پر آشوب  دور میں کمپیوٹر، ایٹمی ترقی، سائنس اور صنعتی ترقیوں کا  بول بالا ہے ۔ اسکولوں میں مختلف جدید علوم  جن میں ٹیکنیکل،  وکالت،  طبابت،  جغرافیا،  کیمیا   وغیرہ کا حاصل کرنا لازمی تقاضہ بن چکا ہے اور بننا بھی چاہیے کیونکہ انسانی معاشروں کی ضرورت ہے اور یہ ہی علوم خدا پرستی،  عبادت،  محبت،  خلوص،  ایثار،  خدمت خلق،  وفاداری اور ہمدردی کے جذبات  کے ساتھ ہوں تو دینی علم کہلاتے ہیں چنانچہ تعلیم یافہ افراد کی خلوص نیت،  خدمت خلق  اور اخلاق کی وجہ سے نیک اور صالح معاشرے تشکیل پاتے ہیں۔    
تعلیم کا اولین مقصد انسان کی فکری، جسمانی او روحانی صلاحیتوں کی نشونما کرنا ہوتاہے تعلیمی حصول کیلئے قابل اساتذہ بے حد ضروری ہیں جوبچوں کو اعلی تعلیم کے حصول میں مدد  فراہم کرتے ہیں استاد وہ نہیں جو محض دو  چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجائیں بلکہ استاد  وہ ہے جو طالب اور  طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے اور اپنے شاگردوں کو شعور و  ادراک ،  علم و آگہی  نیز فکر  و  نظر کی دولت سے  مالا مال کرتا ہے جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا ،ان کے شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں۔  
جہاں اساتذہ کی اتنی بڑی ذمہ داری ہوتی ہے وہیں قوم و ملت کی بھی اس سے بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، قوموں کے ہرفرد کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے  اپنے معاشرے کو اچھا بنائیں اور یہ عظیم کام  بغیر علم کے ممکن ہی نہیں ہے اگر معاشرے خراب ہیں تو سمجھ لیجیے تعلیم کا فقدان ہے لہذا اس فقدانی کا علاج بہت ضروری  ہے در حقیقت قوم کے با اثر و رسوخ افراد  نے اس مسئلہ کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا  ہی نہیں ہے اور اگر سوچا  بھی ہے تو ان سے باصلاحیت افراد جوڑے نہیں ہیں۔  
یاد رکھیے اسلامی تاریخ  اس بات کی شاہد ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت جیسی دولت کی مدد سے  دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمانوں نے علم اور تعلیم سے دوری یا تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا  یا تو  وہ غلام بنالیئے گئے یابحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔   
ہندوستان میں بھی قوم کی حالت کچھ اسی طرح دکھائی دے رہی ہے اگر یہ کہا جائے کہ قوم اپنی شناخت کھو بیٹھی ہے تو بیجا نہ ہوگا کیونکہ شیعہ قوم علم سے پہچانی جاتی تھی اگر ماضی میں علم کی بات ہوتی تھی تو کہاجاتا تھا سادات اور اہلبیت علیہم السلام کے پیروکار عالم ہوتے ہیں مگر آج ایسا نہیں ہے کیونکہ شیعہ قوم تعلیم سے دوری کی وجہ سے اپنی شناخت کھوبیٹھی ہے۔ یہ شناخت کسی ایک کی سعی و تلاش سے واپس نہیں آئے گی بلکہ قوم کے ہرفرد کو اس مشن میں حصہ داری کرنی ہوگی اور جب کسی مشن کا آغاز ہوتا ہے تو چند ہی لوگ اس کی ابتدا کرتے ہیں ۔  چنانچہ  ملک بھر میں سمینار اور کانفرنس  برگزار ہو تے رہتے ہیں جن میں زیادہ تر قوم و ملت کے مستقبل کی کوئی بات نہیں ہوتی اور اگر ہوتی بھی ہے تو اس پر عمل نہیں ہوتا اور یہ سب اسلیے ہے کہ سمینار  یا کانفرنس کے برگزار کرنے کا مقصد ہی شہرت طلبی یا اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے  چنانچہ وہ ان کی منشاء کے مطابق مل جاتی ہے۔ میں اپنی قوم سے درخواست گزار ہوں کہ تعلیم کے مسئلہ کی طرف متوجہ ہوں اور قوم  و ملت کے بچوں کے مستقبل  پر  غور  فرمائیں ۔ اس پر آشوب ماحول میں قوم کے ہرفرد کا حقیقی وظیفہ یہ ہے کہ وہ تعلیم اور اقتصاد پر توجہ دے کر اپنی  شناخت کو محفوظ کر ے  اور یہ کام  اس وقت ممکن ہوگا جب اہل بصیرت اس امر کے لئے حساس دل کے ساتھ  آگے آئیں اور قوم کی ڈوبتی ہوئی نبضیں اوپر لائیں۔ 
 میں یہ نہیں کہتا کہ لوگ کام نہیں کر رہے کام ہورہا ہے جو مختلف اداروں اور افراد کی صورت میں سامنے آیا اور آتارہے گا۔ مگر اپنے اپنے معاشرے،  محلوں  اور شہروں کا  سنجیدگی  سے تجزیہ کریں کہ ہمارے شہر اور محلے میں تمام وسائل علمی اور زیستی مہیا ہیں یا ہمیں کسی دوسری جگہ کا سفر کرنا پڑ رہا ہے اگر علاج کی ضرورت ہے تو ہم نے اپنے بچوں کو  میڈیکل سائنس کی تعلیم دی اور ہوسپیٹل بناکر  علاج کا ساز و سامان فراہم کیا ہے یا نہیں۔ ہم نے کبھی معاشرے کے غریب افراد کی تعلیم، علاج اور اقتصادی حالت کے سدھار کی فکر کی؟ہرگز نہیں۔  اگر کبھی سوچا بھی تو اپنی درآمد ، شہرت  یا قوت کے مظاہرے کے لئے کسی شخصیت  یا کسی دوسری بات کو عنوان بنا کر سمینار اور کانفرنس  کے بارے میں سوچا جس کا نتیجہ پانی کے بلبلے کے مانند ہے اور اس سے قوم و ملت کو کوئی نفع نہیں ہے لہذا صاحبان عقل کے لئے غور فکر کا مقام ہے کہ وہ  اپنے اپنے حلقوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کرائیں تاکہ جہالت جیسے وائرس کے سبب غربت، ظلم و جور، فتنہ و فساد اور بے انصافی جیسے امراج کا وجود میں آ نے سے پہلے ہی سدباب ہوسکے۔آخر میں، میں اللہ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ پالنے والے انسانی معاشروں کی اصلاح فرما اور قوموں کو  اپنے اپنے معاشرے کو اچھا بنانے کی توفیق عطا فر ما  آمین۔ 
والسلام علی من اتبع الھدی
سید رضی زیدی پھندیڑوی

Monday, 13 March 2023

شاعر، ادیب و مداح اہلبیت علھم السلام جناب الحاج ذولفقار باقر پھندیروی


 جناب سید ذوالفقار باقر  فرزند سید صولت حسین زیدی مرحوم 25 اگوست1970 در شھرک پھندیری سادات

 استان مرادآباد (فعلی امروھا) ایالت آتراپردیش دیدہ بہ جھان گشود۔ تحصیلات ابتدایی را در دبستان دولتی بنام کسان جونئر ھائی اسکول فرا گرفت۔ نیز تحصیلات احکام۔ قرآن مجید زبان اردو را در مدرسہ مصباح العلم پھندیری سادات از اساتید مھربان فرا گرفت۔ بعد از تکمیل دروس ابتدایی  در سال 1980م عازم نوگاواں سادات شد و برای تحصیلات علوم دینی وارد مدرسہ باب العلم نوگاواں سادات شد۔ ایشان در این مدرسہ تا سال 1987م از اساتید جید علوم مختلف را فراگرفت و مدرک منشی، مولوی و عالم را با نمبرات خوب اخذ نمود۔
آقای باقر بعد از اخذ مدرک عالم تصمیم گرفت کہ ما بقیہ دروس حوزوی را در مدرسہ امام محمد باقر ( نجفی ھاؤس) بگذرانند لذ عازم ممبئی شد ولی پزیرش نشد و بہ وطن خویش برگشت و تصمیمی کہ برای تکمیل دروس حوزہ وی را گرفتہ بود منصرف شد و بعد از چند ماہ ھمراہ پدرش کہ در سفارت کویت در دھلی کارمند بودند آمد۔
ایشان در دھلی دروس غیر حوزہ وی را ادامہ داد و در دوران تحصیلات  18 زانویہ 1989م در سفارت کویت بعنون کارمند منتخب شد و ھمزمان ھم تحصیلات خویش را ادامہ داد و ھم در سفارت کار می کرد۔ ایشان  دورہ کارشناسی و کارشناسی ارشد را در جامعہ ملیہ اسلامیہ دھلی گذراند و مدرک کارشناسی و کارشناسی ارشد را در سال 2001م اخذ نمود۔ ایشان ھمزمان تحصیلات کارشناسی و ارشد در امتحانات ادیب کامل و معلم شرکت نمود و با نمرات خوب مدرک معلم را گرفت۔
ایشان شاعر توانا می باشند۔ ایشان در اصناف سخن: حمد، نعت، منقبت،نظم، غزل، نوحے، رباعیات، قطعات و قطعات تاریخی طبع آزمایی نمود۔
باقر پھندیروی در سال 1997م آغاز شاعری را از غزل کرد و  استادش پرفسور خالد محمود اصلاح می نمود۔ وقتیکہ کہ در غزل گویی مھارت پیدا کرد و در شوق منقبت از استاذالشعرا آقای رضا امروھوی کسب فیض نمود و خودش را در ادبیات بہ کمال رساند۔ ایشان برای غزل سرودن بہ رادیو و تلویزیون ھند دعوت می شدند و گاہ بگاہ می رفتند و اشعاری می سرودن۔ ایشان سالھا بہ خانہ فرھنگ جمھوری اسلامی ایران در دھلی برای شرکت و سرودن اشعار در برنامہ ھای ادبی انجمن بی دل و جشن ھای مختلف می رفت۔ ھمیشہ منقبت و غزلھای ایشان در مجلہ ھا و روزنامہ ھا چاپ می شد۔ باقر پھندیروی برای مستفیض شدن مؤمنین مجموعات اشعار خویش(اشکوں کے چراغ، آئینہ عقیدت و انمول دولت) بہ چاپ رساند۔ از مجموعات اشعاری ایشان مؤمنین مستفیض می شوند۔ ما در ذیل نمونہ ھای نعت و غزل ایشان را میاریم تا توانایی اشعار گویی و فکرش احصاس کرد۔  
 
نعت
آپ کا چاند خور آپ کا ہے                              ذرے ذرے میں نور آپ کا ہے۔
بھیک لفظوں کی عطا کر اے خداے مرتضیٰ         منقبت لکھنی ہے اب مجھ کو براے مرتضیٰ۔
شعور و فکر و عمل عزم و آگہی کے لیے                  غم حسین ضروری ہے زندگی کے لیے۔
۔باقر حیات دونوں جہاں کی نصیب ہو                گر فاطمہ یہ کہدیں کہ مصرع قبول ہے۔۔
غزل
میں نے مانا تھا بس کہا دل کا                              کیا کہوں حال کیا ہوا دل کا۔
و
صدا  ان کو لگا کر دیکھتے ہیں                              وہ روٹھے ہیں منا کر دیکھتے ہیں
ہیں اپنے منتظر کے منتظر ہم                             اسے پلکیں بچھاکر دیکھتے ہیں
یہ سوچا ہے تری آنکھوں کے رستے                    ترے دل میں سما کر دیکھتے ہیں
بدل جاتے ہیں گلشن کے نظارے                      وہ جب  نظریں   اٹھا کر دیکھتے ہیں
وہاں ملتی ہے جاکر سرفرازی                            چلو سجدے میں جا کر دیکھتے ہیں
چراتا ہے نظر جو ہم سے مل کر                          اسی سے دل لگا کر دیکھتے ہیں
جہاں میں امن کی خواہش ہے باقر                    کبوتر پھر اڑا کر دیکھتے ہیں
ایشان ھمیشہ ھمنشینان علماء، فضلاء، دانشوران و اھل علم و فضل ھستند ھرجایی کہ برای سرودن اشعار مدعو می شوند اول وضعیت زمان و مکان و تمایل سامعین جایزہ می گیرند و بعد شروع بہ سردن می کنند اگر فرصت کم ھست دو سہ تا بیت می خونند و التماس دعا می گویند۔
جناب باقر تاکنون در سفارت کویت کارمند ھستند و زیارت خانہ خدا و چندین مرتبہ بہ زیارات عتبات عالیات مشرف شدند۔ فی الحال ھمراہ خانوادہ در ترلوکپوری دھلی در خانہ پدر قیام پزیر ھستند۔ من از خداوند متعال برای ایشان توفیقات بیشتر مسئلت دارم۔ آمین والحمدللہ رب العالمین۔
 لسلام سید رضی زیدی نمبردار 

Wednesday, 23 February 2022

حضرت علی علیہ السلام کا وہ قول جو آتی اور جاتی سردی میں کثرت سے بیان ہوتا ہے ۔ نقصان دہ اور مفید سردی کے متعلق:

حضرت علی  علیہ السلام کا وہ قول جو آتی اور جاتی سردی میں کثرت سے بیان ہوتا ہے ۔ نقصان دہ اور مفید سردی کے متعلق:

 از قلم: مولانا سید رضی زیدی پھندیڑوی دہلی

آتی اور جاتی ہوئی سردی کے موسم میں لوگ  حضرت علی علیہ السلام  کے قول کو دو طرح سے بیان کرتے ہیں ۔ قول اول:   یہ کہ آتی اور جاتی ہوئی سردی سے بچنے کے دستور کو سمجھتے ہیں اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہیں قول دوم:  آتی ہوئی سردی سے پرہیز اور جاتی ہوئی کے اسقبال کو بیان کرتے ہیں  ۔ میں نےاس بات کو اپنے لیے ضروری سمجھا کہ حضرت کے اس قول کا ترجمہ وضاحت سے بیان کروں تاکہ درست مطلب  واضح ہوجائے۔

امام علی علیہ السلام اپنے اس حکیمانہ کلام میں ایک اہم طبی اور کارساز عمل کو بیان فرما رہے ہیں جس کی رعایت سے انسان بہت سی  بیماریوں سےمحفوظ رہ سکتا اور جسم انسانی کی نشونما میں مددملتی ہے۔قَالَ (علیه السلام): تَوَقَّوُا الْبَرْدَ فِي أَوَّلِهِ وَ تَلَقَّوْهُ فِي آخِرِهِ، فَإِنَّهُ يَفْعَلُ فِي الْأَبْدَانِ كَفِعْلِهِ فِي الْأَشْجَارِ، أَوَّلُهُ يُحْرِقُ وَ آخِرُهُ يُورِقُ.(نہج البلاغہ، حکمت 128) آتی ہوئی سردی سے احتیاط کرو اور جاتی ہوئی سردی کاخیر مقدم کر و کیونکہ سردی جسموں میں وہی اثر کرتی ہے جو درختو ں میں کرتی ہے کہ ابتدا ئی سردی درختوں کو جھلسا دیتی ہےاور آخرمیں سرسبز و شاداب کردیتی ہے. نباتا ت پر تبدیلی موسم کا اثر ہوتا ہے چنانچہ موسم خزاں میں برودت و پیوست کے غالب آنے سے پتے مرجھا جاتے ہیں روح نباتاتی افسردہ ہو جاتی ہےچمن کی حسن و تازگی مٹ جاتی ہے اور سبزہ زاروں پر موت کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور موسم بہار ان کے لیے زندگی کا پیغام لے کر آتا ہے او ربار آور ہواؤں کے چلنے سے پتے اور شگوفے پھوٹنے لگتے ہیں اور شجر سر سبز و شاداب اور دشت و صحرا سبزہ پوش ہوجاتے ہیں . اسی طرح ابدان انسانی ہیں جن پر درختوں اور پودوں کی مانند موسم تاثیر گزار ہوتا ہے۔  بوعلی سینا نے اپنی طبی کتاب القانون میں اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا: ابدان جاتی ہوئی سردی میں وہ احساس نہیں کرتے جو آتی ہوئی سردی میں کرتے ہیں کیونکہ  بہار کےموسم کی سردی میں ابدان ٹھنڈ والی سردی کے عادی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بہار کی سردی ابدان کو نقصان نہیں پہنچاپاتی مگر آتی ہوئی سردی ابدان کو بہت زیادہ نقصان پہنچا دیتی ہے کیونکہ ابدان گرمی کے عادی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے جسم سردی کو برادشت نہیں کرپاتے اور افسردہ ہوجاتے ہیں۔ (کتاب قانون، ج 1، ص 83) البتہ خداوند کریم فصول کو تدریجی داخل کرتا ہے تاکہ فصول کے ورود کے نقصانات کم ہوں اور اجسام سردی کی عادت کرلیں۔

 اسی طرح کا  حکمت آمیز کلام رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  سے دوسری عبارت  میں نقل ہوا ہے جو اس قول کی تائید و تاکید فرماتا ہے۔  آپ نے فرمایا: اِغْتَنِمُوا بَرْدَ الرَّبیعَ فَإنَّهُ یَفْعَلُ بِأبْدانِکُمْ ما یَفْعَلُ بِأشْجارِکُمْ وَاجْتَنِبُوا بَرْدَ الْخَریفِ فَإنَّهُ یَفْعَلُ بِأبْدانِکُمْ ما یَفْعَلُ بِأشْجارِکُمْ۔(بحارالانوار، ج 59، ص 271، ح 69) بہار کی سردی کو غنیمت جانیں کیونکہ ابدان میں وہ ہی کام کرتی ہے جو درختوں میں کرتی ہے۔ اور آتی ہوئی سردی سے پرہیز کریں کیونکہ ابدان میں وہ ہی اثر کرتی ہے جو درختوں میں تاثیر گذار ہوتی ہے۔

 ماہرین طب بھی اسی مطلب کو اس عبارت میں یوں سمجھتے ہیں: موسم خزاں میں سردی سے بچنا اس لیے ضروری ہے کہ موسم کی تبدیلی سے مزاج میں انحراف پیدا ہوجاتا ہے اور نزلہ ،  زکام اور کھانسی وغیرہ کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے .وجہ یہ ہوتی ہے کہ بد ن گرمی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں کہ ناگا ہ سردی سے دوچار ہونا پڑتا ہے جس سے دماغ کے مسامات سکڑجاتے ہیں ،اور مزاج میں برودت و پیوست بڑھ جاتی ہے چنانچہ گرم پانی سے غسل کرنے کے بعد فورا ًٹھنڈے پانی سے نہانا اسی لیے مضر ہے کہ گرم پانی سے مسامات کھل چکے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پانی کے اثرات کو فوراًقبول کرلیتے ہیں اور نتیجہ میں حرارت غریزی کو نقصان پہنچتا ہے البتہ موسم بہار میں سردی سے بچاؤ کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ وہ صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے کیونکہ پہلے ہی سے سردی کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں اس لیے بہار کی معتدل سردی بدن پر ناخوشگوار اثرنہیں ڈالتی بلکہ سردی کا زور ٹوٹنے سے بدن میں حرارت و رطوبت بڑھ جاتی ہے جس سے نشوونما میں قوت آتی ہے ،حرارت غزیری ابھرتی ہے اور جسم میں نمو طبیعت میں شگفتگی اور روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے .ساری باتوں کا خلاصہ یہ ہوا کہ آتی ہوئی ٹھنڈ سے پرہیز کریں اور جاتی ہوئی سردی سے پرہیز اتنا ضروری نہیں ہے جتنا آتی ہوئی سے ہے کیونکہ جاتی ہوئی ابدان کے لئے مفید ہے پس قول اول: یہ کہ آتی اور جاتی ہوئی سردی سے بچنا چاہیے درست نہیں ہے بلکہ فقط آنے والی سے پرہیز کا دستور ہے۔

                                                                                           والسلام  سید رضی زیدی پھندیڑوی دہلی



 

نورِ زندگی، ہدایت و اخلاق کا آئینہ

از: سید رضی حیدر پھندیڑوی انسانی تہذیب کی پوری تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ علم ہی وہ نور ہے جس نے انسانی فکر کو جِلا بخشی، کردار کو نکھارا ...